سینما اور میوزیکل کنسرٹس ، سعودی مفتی نے خبردار کردیا
سعودی عرب کے مفتی اعظم عبدالعزیز الشیخ نے خبردار کیا ہے کہ سینما اور میوزیکل کنسرٹس اخلاقی زوال کا باعث ہیں اور یہ اقدار کی تباہی کا باعث بن سکتے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سعودی عرب کے مفتی اعظم عبدالعزیز الشیخ نے سینما گھروں اور میوزیکل کنسرٹس کو اخلاقی بے راہ روی کا پیش خیمہ قرار دیتے ہوئے سعودی عرب میں ان پر پابندی کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں اگر سینما گھروں اور موسیقی کے پروگراموں کی اجازت دی گئی تو یہ اخلاقی زاوال کا باعث بنیں گے۔
ان کا کہناتھا کہ گانے بجانے پر مبنی کنسرٹس میں کچھ اچھائی نہیں ہے بلکہ موسیقی اور سینما گھروں کو کھولنا دراصل مخلوط محفلوں کیلئے اجازت ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ شروع شروع میں وہ خواتین کیلئے علیحدہ جگہ منتخب کریں گے اور مردوں کیلئے بھی لیکن بعد مرد اور خواتین ایک ہی جگہ پر آجائیں گے،جوکہ اخیلاقیات اور اقدار کو تباہ کر دے گا ۔
سعودی عرب کی حکومت نے گزشتہ برس اپریل میں وژن 2030 کے نام سے ترقی کے نئے اہداف بنائے تھے، جس میں سیاحت اور انٹرٹینمنٹ کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔ اس تناظر میں سعودی عرب میں انٹرٹینمنٹ اتھارٹی نے بھی کئی ایونٹس کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔
مفتی اعظم نے البتہ کہا کہ ثقافتی اور سائنسی میڈیا سے لطف اندوز ہونے میں کوئی برائی نہیں ہے تاہم انہوں نے حکام پر زور دیا کہ اس تناظر میں کسی برائی کو پنپنے کی اجازت نہ دیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سعودی عرب کے مفتی اعظم عبدالعزیز الشیخ نے سینما گھروں اور میوزیکل کنسرٹس کو اخلاقی بے راہ روی کا پیش خیمہ قرار دیتے ہوئے سعودی عرب میں ان پر پابندی کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں اگر سینما گھروں اور موسیقی کے پروگراموں کی اجازت دی گئی تو یہ اخلاقی زاوال کا باعث بنیں گے۔
ان کا کہناتھا کہ گانے بجانے پر مبنی کنسرٹس میں کچھ اچھائی نہیں ہے بلکہ موسیقی اور سینما گھروں کو کھولنا دراصل مخلوط محفلوں کیلئے اجازت ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ شروع شروع میں وہ خواتین کیلئے علیحدہ جگہ منتخب کریں گے اور مردوں کیلئے بھی لیکن بعد مرد اور خواتین ایک ہی جگہ پر آجائیں گے،جوکہ اخیلاقیات اور اقدار کو تباہ کر دے گا ۔
سعودی عرب کی حکومت نے گزشتہ برس اپریل میں وژن 2030 کے نام سے ترقی کے نئے اہداف بنائے تھے، جس میں سیاحت اور انٹرٹینمنٹ کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔ اس تناظر میں سعودی عرب میں انٹرٹینمنٹ اتھارٹی نے بھی کئی ایونٹس کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔
مفتی اعظم نے البتہ کہا کہ ثقافتی اور سائنسی میڈیا سے لطف اندوز ہونے میں کوئی برائی نہیں ہے تاہم انہوں نے حکام پر زور دیا کہ اس تناظر میں کسی برائی کو پنپنے کی اجازت نہ دیں۔

Comments
Post a Comment