چین میں برڈ فلو سے ہلاکتوں کی تعداد 9 ہوگئی
عالمی ادارہ صحت نے چین میں تیزی سے پھیلتے برڈ فلو پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
فوٹو: اے ایف پی
بیجنگ: عالمی ادارہ صحت نے چین میں برڈ فلو سے 9 ہلاکتوں کے بعد تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بقیہ ممالک سے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک میں ہونے والی ہلاکتوں اور کیسز فوری طور پر رپورٹ کریں۔
چین کے شمالی صوبے ہینان، جنوبی گوانگ ڈونگ اور مرکزی ہیونان کے طبی مراکز سے اب تک برڈ فلو وائرس سے 9 اموات کی تصدیق ہوچکی ہے۔ ان میں سب سے تازہ واقعہ گزشتہ روز ہینان میں پیش آیا جہاں ایک ہی ہوٹل میں کام کرنے والے دو ملازم برڈ فلو سے ہلاک ہوئے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق چین میں برڈ فلو کی وبا مارچ 2013 میں نوٹ کی گئی تھی جس میں اتار چڑھاؤ نوٹ کیا جاتا رہا تھا لیکن ان تین سالوں میں اب تک ایک ہزار افراد برڈ فلو کے شکار ہوئے ہیں جن میں سے 39 فیصد افراد اس کے ہاتھوں لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ چین میں برڈ فلو کا وائرس ایچ سیون این نائن ہے جو سانس کی شدید بیماری پیدا کرتا ہے اور اس کی شدت سردیوں میں بڑھ کر جان لیوا ہوجاتی ہے۔
چین میں نئی وبا کی صورت میں اب تک کئی دوسرے بڑے شہروں میں بھی برڈ فلو کے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں شنگھائی، ہانگ کانگ اور زنہوا وغیرہ شامل ہیں۔ گزشتہ برس جون میں ہانگ کانگ میں ہزاروں مرغیوں کو تلف کیا گیا تھا جب کہ پورے چین میں اس کا خوف ہزاروں لاکھوں مرغیوں کی جان لے گیا تھا۔
ڈاکٹروں کے مطابق ایچ سیون این نائن ان کے لیے پریشان کن ہے کیونکہ اس سے متاثرہ مرغیاں مرتی نہیں اور بہت تیزی سے یہ وائرس انسانوں تک منتقل ہوتا ہے ۔ عالمی ادارہ صحت کی ڈائریکٹر کے مطابق چین میں فلو کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور انہوں نے فوری طور پر تمام ممالک سے برڈ فلو کے معاملات پر نظر رکھنے کو کہا ہے۔
فوٹو: اے ایف پی
بیجنگ: عالمی ادارہ صحت نے چین میں برڈ فلو سے 9 ہلاکتوں کے بعد تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بقیہ ممالک سے کہا ہے کہ وہ اپنے ملک میں ہونے والی ہلاکتوں اور کیسز فوری طور پر رپورٹ کریں۔
چین کے شمالی صوبے ہینان، جنوبی گوانگ ڈونگ اور مرکزی ہیونان کے طبی مراکز سے اب تک برڈ فلو وائرس سے 9 اموات کی تصدیق ہوچکی ہے۔ ان میں سب سے تازہ واقعہ گزشتہ روز ہینان میں پیش آیا جہاں ایک ہی ہوٹل میں کام کرنے والے دو ملازم برڈ فلو سے ہلاک ہوئے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق چین میں برڈ فلو کی وبا مارچ 2013 میں نوٹ کی گئی تھی جس میں اتار چڑھاؤ نوٹ کیا جاتا رہا تھا لیکن ان تین سالوں میں اب تک ایک ہزار افراد برڈ فلو کے شکار ہوئے ہیں جن میں سے 39 فیصد افراد اس کے ہاتھوں لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ چین میں برڈ فلو کا وائرس ایچ سیون این نائن ہے جو سانس کی شدید بیماری پیدا کرتا ہے اور اس کی شدت سردیوں میں بڑھ کر جان لیوا ہوجاتی ہے۔
چین میں نئی وبا کی صورت میں اب تک کئی دوسرے بڑے شہروں میں بھی برڈ فلو کے واقعات سامنے آئے ہیں جن میں شنگھائی، ہانگ کانگ اور زنہوا وغیرہ شامل ہیں۔ گزشتہ برس جون میں ہانگ کانگ میں ہزاروں مرغیوں کو تلف کیا گیا تھا جب کہ پورے چین میں اس کا خوف ہزاروں لاکھوں مرغیوں کی جان لے گیا تھا۔
ڈاکٹروں کے مطابق ایچ سیون این نائن ان کے لیے پریشان کن ہے کیونکہ اس سے متاثرہ مرغیاں مرتی نہیں اور بہت تیزی سے یہ وائرس انسانوں تک منتقل ہوتا ہے ۔ عالمی ادارہ صحت کی ڈائریکٹر کے مطابق چین میں فلو کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور انہوں نے فوری طور پر تمام ممالک سے برڈ فلو کے معاملات پر نظر رکھنے کو کہا ہے۔

Comments
Post a Comment